انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) کی دنیا میں روز بروز جدید سمارٹ ہوم ڈیوائسز متعارف ہو رہی ہیں، لیکن ان کی پاس کیز سیکیورٹی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی رفتار انتہائی سست ہے۔ جہاں اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپس پاس ورڈز کے بغیر محفوظ لاگ ان کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں، وہاں ہمارے گھروں میں موجود سمارٹ بلب، سیکیورٹی کیمرے اور پہننے والی ڈیوائسز (Wearables) اب بھی پرانے اور غیر محفوظ پاس ورڈز پر منحصار ہیں۔ پاس کیز سیکیورٹی ٹیکنالوجی جیسے جدید معیار ان سمارٹ آلات تک پہنچنے میں ناکام کیوں ہو رہے ہیں؟ یہ سوال موجودہ سمارٹ ہوم انڈسٹری کا ایک بڑا سیکیورٹی چیلنج بن چکا ہے۔
سمارٹ ہوم آلات کی اکثریت انتہائی کم بجلی اور محدود پروسیسنگ طاقت پر کام کرتی ہے۔ پاس کیز سیکیورٹی ٹیکنالوجی کو موثر انداز میں چلانے کے لیے جدید کرپٹو گرافک چپ اور بائیو میٹرک تصدیق (جیسے فنگر پرنٹ یا فیس آئی ڈی) کی ضرورت ہوتی ہے۔ زیادہ تر سمارٹ کیمرے، سنسرز اور سمارٹ گھڑیاں سستے پروسیسرز پر مبنی ہوتی ہیں، جن میں پیچیدہ انکرپشن کی صلاحیت نہیں ہوتی۔
سستی پیداواری لاگت اور کم بجلی کی کھپت کی وجہ سے سمارٹ ڈیوائسز میں جدید پاس کیز سیکیورٹی ٹیکنالوجی شامل کرنا سمارٹ ہوم کمپنیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
دیگر بڑی تکنیکی دنیا کی طرح سمارٹ ہوم کا ایکو سسٹم یکساں نہیں ہے۔ مختلف کمپنیاں اپنے الگ سافٹ ویئر اور پروٹوکولز استعمال کرتی ہیں۔ جب بات پاس کیز کی ہوتی ہے تو ایپل، گوگل اور مائیکروسافٹ کے درمیان تو ہم آہنگی نظر آتی ہے، لیکن سمارٹ ہوم انڈسٹری میں تمام برانڈز کو ایک پیج پر لانا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ اگرچہ 'میٹر' (Matter) جیسے نئے معیار لائے جا رہے ہیں، لیکن ابھی بھی پرانی ڈیوائسز کو اپ ڈیٹ کرنا ممکن نہیں رہا۔
پاس کیز کا استعمال اسمارٹ فون پر انتہائی آسان ہے کیونکہ وہاں ڈسپلے اور بائیو میٹرک سنسر موجود ہوتے ہیں۔ تاہم، ایک سمارٹ بلب، کنیکٹڈ لاک یا چھوٹے سمارٹ سپیکر میں کوئی اسکرین نہیں ہوتی۔ صارف ان آلات پر براہ راست پاس کیز سیکیورٹی ٹیکنالوجی کی تصدیق کیسے کرے؟ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جو ڈویلپرز کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اب بھی روایتی پاس ورڈز یا کلاؤڈ اکاؤنٹ لاگ ان کا سہارا لیں۔
اس سیکیورٹی گیپ کو پر کرنے کے لیے انڈسٹری کو نئے سیکیورٹی معیارات پر کام کرنا ہوگا۔ سمارٹ فونز کو مرکزی ہب کے طور پر استعمال کر کے سمارٹ ہوم ڈیوائسز کو کنٹرول کرنا اور پاس کیز سیکیورٹی ٹیکنالوجی کو کلاؤڈ ہب کے ذریعے لاگو کرنا ایک ممکنہ حل ہو سکتا ہے۔ جب تک سمارٹ ہوم ہارڈویئر میں بنیادی تبدیلیاں نہیں آئیں گی، تب تک ہمارے گھروں کی انٹرنیٹ ڈیوائسز خطرے کی زد میں رہیں گی۔
کیا آپ کے خیال میں سمارٹ ڈیوائسز بنانے والی کمپنیوں کو سیکیورٹی پر ہارڈویئر کی لاگت کو ترجیح دینی چاہیے؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔









